Showing posts with label Famous Dastaan. Show all posts
Showing posts with label Famous Dastaan. Show all posts

Thursday, 12 December 2013

Heer Waris Shah by Sayad Waris Shah

Heer Waris Shah by Sayad Waris Shah
Jobs in Pakistan , Talks Shows , Funny Vedio , information , Latest News , News Paper ,Urdu Books and Novels, Digest From Here Online in pdf Format. Download below Link and enjoy the writter if you want to any books please send me comments.inshAllah we will try to solve your problem.All the information and novels/books here are collected from reliable sources and appeared to be working fine.

Saturday, 20 July 2013

Yousaf Zuleekha Story in Punjabi Poetry


Yousaf Zuleekha Story in Punjabi Poetry



Free Download Urdu Books and Novels, Digest From Here Online in pdf Format. Download below Link and enjoy the writter . if you want to any books please send me comments.inshAllah we will try to solve your problem.All the information and novels/books here are collected from reliable sources and appeared to be working fine.

 Download 


Yousaf Zuleekha Story in Punjabi Poetry ReadOnline


Download


Yousef Zulekha - Urdunovels.biz by makhan7860


Tuesday, 4 June 2013

Purisrar Uloom Ka Mahir By Waqar ul Haq Ghouri Part(1 --2 )


Purisrar Uloom Ka Mahir





UrduBooks and Novels, Digest From Here Online in pdf Format. Download below Link and enjoy the writter . if you want to any books please send me comments.inshAllah we will try to solve your problem.All the information and novels/books here are collected from reliable sources and appeared to be working fine

 

 Download  02


Purisrar Uloom Ka Mahir ReadOnline






Download 01


Purisrar Uloom Ka Mahir ReadOnline

Purisrar Uloom Ka Mahir By Waqar ul Haq Ghouri Part(1 --2 )


Purisrar Uloom Ka Mahir





UrduBooks and Novels, Digest From Here Online in pdf Format. Download below Link and enjoy the writter . if you want to any books please send me comments.inshAllah we will try to solve your problem.All the information and novels/books here are collected from reliable sources and appeared to be working fine

 

 Download  02


Purisrar Uloom Ka Mahir ReadOnline




Download 01


Purisrar Uloom Ka Mahir ReadOnline




Monday, 27 May 2013

Dastaan Taboot e Sakina



 











Free Download Islami Book UrduBooks and Novels, Digest From Here Online in pdf Format. Download below Link and enjoy the writter . if you want to any books please send me comments.inshAllah we will try to solve your problem.All the information and novels/books here are collected from reliable sources and appeared to be working fine


Saturday, 11 May 2013

Tipu Sultan By Shameem Ali Khan


Tipu Sultan By Shameem Ali Khan


Free Download Urdu Books and Novels, Digest From Here Online in pdf Format. Download below Link and enjoy the writter . if you want to any books please send me comments.inshAllah we will try to solve your problem.All the information and novels/books here are collected from reliable sources and appeared to be working fine.


































سلطان ٹیپو شھید


خاندانی پس منظر



آپ کے والد کا نام حیدر علی تھا۔ جو کہ میسور کے والی نواب تھے۔ آپ کے والد نے راجہ میسور راجے دڑیار کی فوج میں معمولی سپاہی سے ملازمت اختیار کی تھی۔ جو کہ اپنی خداداد صلاحیتوں کی وجہ سے بہت جلد ڈنڈیگل کے گورنر مقرر ہوۓ۔ کیونکہ راجہ ان کی صلاحیتوں اور خوبیوں کو سمجھ چکا تھا جن کی وجہ سے ایک معمولی سپاہی کو اس قدر اہم گورنری کا عہدہ تغویض کیا۔ آپ کے دادا بھی میسور کے راجہ کی فوج میں بطور سپاہی ملازم تھے۔ اور ان کی وفات کے بعد سلطان ٹیپو کے والد حیدر علی نے بھی راجہ میسور کی فوج میں بطور سپاہی ملازمت حاصل کر لی جو ترقی کرتے ہوۓ ڈنڈی گل کے گورنر مقرر ہوۓ آپ کا خاندان فوج میں ملازمت کرتا ہوا آ رہا تھا۔ کیونکہ آپ کے باپ کے علاوہ دادا بھی جن کا نام فتح محمد تھا وہ بھی صوبہ اسرا کے حاکم نواب درگاہ قلی خاں کے دربار میں فوج میں ایک اہم عہدے پر مامور تھا۔ آپ کے دادا ایک جنگ میں شہید ہو گۓ تھے۔ آپ کے دادا کے تین بیٹے تھے جن کے نام یہ ہیں۔


1۔ حیدر علی


2۔ ولی محمد


3۔ شہباز احمد








حیدر علی جو کہ ٹیپو سلطان کے والد تھے وہ اپنے باپ کی اولاد میں سے سب سے بڑے تھے باقی دونوں بھائی ان سے چھوٹے تھے۔ جب آپ کے دادا شہید ہو گۓ تو ان کے خاندان کا ملازمت کے علاوہ کوئی ذریعہ روزگار نہ تھا جس کی وجہ سے کافی مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ تو بڑے بھائی ہونے کی وجہ سے سارے خاندان کے افراد کا بوجھ ان کے شانوں پر آن پڑا۔ تو آپ نے سب سے پہلے اپنے بھائی شہباو احمد کو سرنگا پٹم بلایا اور ان کی تربیت کا بندوبست کیا۔ ان دنوں ہر بچے کو درجہ ذیل مہارتوں میں کمال پیدا کرنا فخر سمجھا جاتا اور ان مہارتوں میں صلاحیتوں کا پیدا کرنا قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔


1۔ شمشیر زنی۔


2۔ گھوڑ سواری۔


3۔ تیر اندازی


4۔ نشانہ بازی۔


5۔ دیگر جنگی فنون میں کمال پیدا کرنا۔


کیونکہ ان کے زمانہ میں جنگی تربیت کا زیادہ رواج تھا کیونکہ عام جنگيں لڑی جاتی تھیں۔ تو باکمال افراد کی سخت ضرورت اور ان کی قدر ہوتی تھی۔ اس لیے ان دونوں بھائیوں نے نہایت شوق اور محنت سے تمام جنگی فنون میں کمال حاصل کیا اور جنگی فنون میں کمال اس قدر حاصل کیا کہ پورے علاقے میں شہرت ہونے لگی۔


انہی جنگی فنون میں مہارت و کمال کی وجہ سے میسور کے راجہ نے ان کو فوج میں بھرتی کر لیا جس کی وجہ سے کچھ مالی مشکلات میں بھی کمی ہوئی دیون ملی میں مرہٹوں کے ساتھ لڑائی ہوئی جس کی وجوہات درج ذیل تھیں۔


1۔ دہلی کی مغلیہ سلطنت کمزور ہونے کے باعٹ مرہٹے اپنے آپ کو طاقت ور سمجھنے لگے۔


2۔ مرہٹے مغلیہ سلطنت کے کمزور ہونے کی وجہ سے ہندوستان پر حکومت کرنے کے خواب دیکھنے لگے۔


3۔ آۓ دن چھوٹی موٹی سازشیں کرتے رہتے تھے۔ تو ان دنوں میسور ایک چھوٹی سی ریاست تھی۔ تو 1761ء میں مرہٹوں نے حملہ کر دیا۔ راجہ میسور مرہٹوں کے مقابلے میں حیدر علی کی فوج کو فتح حاصل ہوئی اور حیدر علی کی فوج نے مرہٹوں کی فوج کو مار بھگایا۔ مگر حاسدوں نے حیدر علی کے خلاف سر اٹھا لیا۔ راجہ میسور کی ایک رانی اور ایک ہندو وزیر جس کا نام کھنڈے راؤ تھا۔ نے حیدر علی کے خلاف سازشیں شروع کر دیں۔ اور اہم کردار ادا کیا انھوں نے راجہ کو بھی حیدر علی کے خلاف خوب بھڑکایا کیونکہ حیدر علی ایک مسلمان تھا اور راجہ بھی غیر مسلم تھا۔ اس وجہ سے اس کے دل میں بھی عناد موجود تھا۔ تو حاسدوں نے راجہ کو جب حیدر علی کے خلاف بھڑکایا تو راجہ بھی اس کے خلاف ہو گیا۔


"جسے خدا عزت دے کوئی ذلیل نہيں کر سکتا"


حیدر علی کے خلاف حاسدوں کی سازشیں تو جاری تھیں۔ انھوں نے آپس میں مشورے سے طے کیا کہ جب حیدر علی سرنگا پٹم آۓتو اس کی رہائش گاہ کو اچانک خاموشی سے آگ لگا دی جاۓ۔ لیکن جسے اللہ تعالی محفوظ رکھے کوئی اس کو ہر گز نہیں پہنچا سکتا۔ تو حیدر علی کو اس سازش کا پہلے ہی علم ہو گیا۔ وہ اکیلا ہی سرنگا پٹم سے نکل کر بنگلور آ گیا اور اپنے بیوی بچوں کو وہی پر رہنے دیا۔ جس کی وجہ سے اکھنڈے راؤ اور دیگر حاسد اپنے منصوبے میں ناکام رہے اور حیدر علی کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے۔ بلکہ وہ اپنے اعصاب پر بھی قابو نہ رکھ سکے اور راجہ سے حیدر علی کو گرفتار کرنے کے لیے فوج کی اجازت چاہی جو راجہ نے اس کو دے دی تو کھنڈے راؤ نے راجہ کی اجازت سے فوج کو حیدر علی کی کرفتاری کے لیے روانہ کر دیا۔




Dastan-E-Alif Laila Complete Download Free In Pdf


Dastan-E-Alif Laila


Free Download Urdu Books and Novels, Digest From Here Online in pdf Format. Download below Link and enjoy the writter . if you want to any books please send me comments.inshAllah we will try to solve your problem.All the information and novels/books here are collected from reliable sources and appeared to be working fine.



Download 01


Download 02


Download 03


Dastan-E-Alif Laila  ReadOnline


Download 04


Download 05


Download 06


Download 07


Tipu Sultan By Naseem Hijazi


Tipu Sultan By Naseem Hijazi





Free Download Urdu Books and Novels, Digest From Here Online in pdf Format. Download below Link and enjoy the writter . if you want to any books please send me comments.inshAllah we will try to solve your problem.All the information and novels/books here are collected from reliable sources and appeared to be working fine.



 Tipu Sultan ReadOnline 


Download







P-01-02 Added


Dastaan e Tipu Sultan


Dastaan e Tipu Sultan





Free Download Urdu Books and Novels, Digest From Here Online in pdf Format. Download below Link and enjoy the writter . if you want to any books please send me comments.inshAllah we will try to solve your problem.All the information and novels/books here are collected from reliable sources and appeared to be working fine.

 Dastaan e Tipu Sultan



 






مسلم مورخ سچ لکھتا ہے کہ حضرت اقبال کے مردِ مومن کو اگر مجسم حالت میں دیکھنا مقصود ہو تو ٹیپو سلطان شہید اس کا بہترین نمونہ ہے۔ ٹیپو سلطان تاریخ اسلام کا وہ لازوال کردار ہے جس پر عالم اسلام تا قیامت نازاں رہے گا ۔تاریخ عالم شاید ہی اس جری و اولوالعزم مسلم سلطان کی کوئی مثال یا نظیر پیش کر سکے گی۔ایک جری سپاہی اور بہترین سپہ سالار اور ایک بہترین حاکم و منتظم بھی۔سلطان ٹیپو کو اس دنیا سے رُخصت ہوئے تقریبا دو سو بارہ سال بیت چکے ہیں لیکن سلطان ٹیپو کی عظمت کاثبوت یہ ہے کہ اب بھی اس کا نام لوگوںکے دلوں پر لکھا ہواہے۔سلطان فتح علی خان المعروف ٹیپو سلطان کاباپ حیدرعلی میسور کاحکمران تھا۔ اس نے انگریزوں کے ساتھ کئی جنگیں لڑیں اور ان میں کامیاب ہوا مفکراسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمه الله لکھتے ہیں:
”سب سے پہلاشخص جس کواس(انگریزوں کے )خطرہ کااحساس ہواوہ میسور کابلندہمت اورغیور فرمانروا فتح علی خان ٹیپوسلطان (1313 ھ1799 ء)تھا، جس نے اپنی بالغ نظری اورغیرمعمولی ذہانت سے یہ بات محسوس کرلی کہ انگریزاسی طرح ایک ایک صوبہ اورایک ایک ریاست ہضم کرتے رہیں گے اور اگرکوئی منظم طاقت ان کے مقابلہ پرنہ آئی توآخرکارپوراملک ان کالقمہ تربن جائے گا؛ چنانچہ انھوں نے انگریزوں سے جنگ کافیصلہ کیااوراپنے پورے سازوسامان، وسائل اور فوجی تیاریوں کے ساتھ ان کے مقابلہ میں آگئے“۔۔ سلطان ٹیپو نے فن سپا گرمی اپنے باپ سے سیکھاتھا۔ وہ کمال درجے کا دلیر اور بہادر حکمران تھا،جس نے ساری زندگی فرنگی راج کے خلاف جدوجہد میںگزاری ۔ اور اسی جدوجہد میں اپنی جان قربان کردی۔
ٹیپونے ہندوستان کے راجوں،مہاراجوں اور نوابوں کوانگریزوں سے جنگ پرآمادہ کرنے کی کوشش کی، اس مقصدسے انھوں نے سلطان ترکی سلیم عثمانی، دوسرے مسلمان بادشاہوں اور ہندوستان کے امراء اورنوابوں سے خط وکتابت کی اور زندگی بھرانگریزوں سے سخت معرکہ آرائی میں مشغول رہے، سلطان حیدر علی کی وفات کے بعد جس وقت عنانِ حکومت ٹیپو سلطان کے ہاتھ آئی امت مسلمہ کا شیرازہ بکھر رہا تھا اور مسلمانانِ ہند تقسیم ہو رہے تھے۔ ٹیپو سلمان نے ایک جانب اپنی پوری توجہ اتحاد بین المسلمین اور اتحاد بین الاقوام ہند پر مرکوز کی تو دوسری جانب ملک کی صنعت و حرفت پر بھرپور توجہ دی۔ سلطان کے یہی عزائم و ارادے تھے جنہوں نے صلیبی ایسٹ انڈیا کمپنی کو اس مسلم سلطان کا مخالف بنا دیا اور اسی مخالفت نے اس کو تمام عمر جنگوں میں مصروف رکھا۔ مگر باوجود اس کے سلطنتِ خداداد میسور نے صنعت و حرفت اور دیگر فنون میں جو ترقی کی وہ میسور کو کبھی دوبارہ حاصل نہ ہوسکی ۔ٹیپو سلطان نے یہ محسوس کرلیاتھا کہ یوروپ کے انقلاب کی بدولت انگریزوں کے پاس جدیدترین اسلحہ اورجنگی ساز وسامان موجود ہیں۔ اس کا مقابلہ پرانے اور فرسودہ جنگی آلات سے نہیں کیا جاسکتا۔اس لئے اس نے بڑے پیمانے پر نئی تکنیک استعمال کرکے جنگی ساز وسامان تیار کروائے۔ اس نے نہ صرف پیدل افواج اور گھوڑسواروں پر خصوصی دھیان دیا بلکہ بحریہ کو بے انتہا مضبوط اور جدیدترین بنایا۔ بحریہ کاقیام ٹیپوسلطان کاایک عظیم کارنا مہ ہے۔ وہ ہندستان کا پہلا حکمران تھا۔ جس نے سمندری راستوں کی اہمیت کااحساس کیا اور اس کا باضابطہ انتظام کیا۔ اس نے ہندوستان کے ساحلوں کی حفاظت کے لئے بحر ہند میںبصرہ، بوشہر، عمان اور عدن کی بندرگاہوں کی نگرانی ضروری سمجھی۔ سلطان کی بحری فوج میں گیارہ سیریم Lord of Admiralityاور تیس امیر البحر تھے، جن میں دس ساحل پر اور بیس جہازوں پررہتے تھے۔ ملاحوں یعنی بحری جہازوں کے عملہ کی تعداد دس ہزار پانچ سو بیس تھی۔ یہ ایک حیرت انگیز حقیقت ہے کہ سلطان نے 1799میںایک سو جنگی جہازوں کی تیاری کا حکم دیاتھا اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پورا جہاز اپنے تمام کل پروزوں کے ساتھ ریاست کے اندر ہی بنایا جاتاتھا۔ بقول محمود بنگلوری : ’’مٹی کے مصنوعات ، لکڑی کاکام ،چرم سازی، تیل اور تیل کی دیگر مصنوعات، صندل ، رسّی،قالین ،ہاتھی دانت کاکام، نمک بنانا ، کاغذ پر سونے کارنگ چڑھانا اور لطیف ریشم، روئی کی مصنوعات ، لوہے کی مصنوعات ، سلطان ٹیپو کے کمالات کی فہرست کے طورپر پیش کئے جاسکتے ہیں۔ بقول نسیم حجازی:’’ شیر میسور کی فتوحات صرف جنگ کے میدانوں تک ہی محدود تھیں بلکہ وہ بیک وقت ایک ایسا حکمران ،عالم اور مفکر اور مصلح تھا جس کے دل ودماغ کی وسعتوں میںہند کے ماضی کے عظمتیں، حال کے ولولے اور مستقبل کی آرزوئیں سماگئی تھیں۔وہ ہمیں زندگی کی ہردوڑ میں اپنے واقت سے کئی منزلیں آگے دکھائی دیتاہے۔ اس نے ایک ایسے دور میںفلاحی ریاست کانمونہ پیش کیاتھا جب باقی ہندوستان کے نواب اور راجہ اپنی رعایا کی ہڈیوں پرعشرت کدے تعمیر کررہے تھے۔ اس نے اس زمانہ میںبین الاقوامی اتحاد کے لئے جدوجہد کی تھی،جبکہ دیگرممالک اپنے نااہل حکمرانوں کی تنگ نظری ، کمزوری ،بے حسی، اورباہمی رقابتوں کے باعث مغرب کے سامراجی بھیڑیوں کے لئے ایک عظیم شکار گاہ بناچکے تھے۔ اس نے ہندوستان کے ایک ایسے پسماندہ علاقہ میںعدل و مساوات کے جھنڈے گاڑھے تھے، جہاں صدیوں سے جہالت اور افلاس کی تاریکیاں مسلط تھیں۔ حیدرعلی اور ٹیپو سلطان سے قبل میسور کے عوام کی کوئی تاریخ نہ تھی لیکن ان کی حکمرانی کے چند برس پورے ہندوستان کی تاریخ پر چھائے ہوئے ہیں۔مورخ سنکلیر اپنی تاریخ ہندمیںلکھتاہے ’’جس وقت انگریزی فوجیں ٹیپو سلطان کے ملک میںداخل ہوئیں۔ تودیکھا گیا کہ تمام رعیت (ہندو اورمسلمان) نہایت خوشحال ہے۔ ٹیپو سلطان کی ایک چھوٹی سی ریاست میںاٹھارہویں صدی میںجاگیرداری کاخاتمہ کرنا ایک طرح سے جمہوریت کاآغاز تھا۔ سلطان نے زمین داری کے نظام کو ختم کرکے زمین کوحکومت کی ملکیت قراردیا۔
ٹیپوسلطان کے خطرہ کو ختم کرنے کے لیے انگریز، نظام اور مرہٹے متحد ہوگئے۔انگریز اسے ہندوستان پر اپنے اقتدارِ کامل میں سب سے بڑی، بلکہ واحد رکاوٹ سمجھتے تھے۔ اس مسلم دشمن اتحاد کے مقصد کو مزید کامیاب بنانے اور رائے عامہ کی اخلاقی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے انگریزوں نے نہایت عیاری سے ٹیپو سلطان کی مفروضہ چیرہ دستیوں کو اس انداز میں دور تک پہنچادیا کہ خود اپنے بھی اس سے نفرت کرنے لگے۔ حتیٰ کہ فورٹ ولیم کی دیواروں پر کھڑے ہو کر اعلان کردیا گیا کہ سلطان ٹیپو سفاکی اور بربریت میں چنگیز اور ہلاکو سے بڑھ کر ظالم اور انسان دشمن ہے۔ اور پھر مئی 1799 ء 29 ذی قعدہ 1213 ہجری کو ٹیپو سلطان شہید نے اپنی زندگی میں آخری مرتبہ سورج نکلتے دیکھا۔ صبح سویرے اپنے طاﺅس نامی گھوڑے پر سوار ہوکر وہ فوجیوں کے معائنے کیلئے نکلا ۔ انگریزوں کی مسلسل گولہ باری سے قلعہ کی دیوار گرگئی تھی۔ اس نے اس کی مرمت کا حکم دیا اور پھر واپس محل آ کرغسل کیا۔ یاد رہے کہ قلعے کے محاصرے کے بعد سے وہ محل میں رہائش ترک کر کے سپاہیوں کی طرح اک خیمہ میں رہنے لگا تھا ۔ غسل سے فارغ ہونے کے بعد دوپہر تک فصیل کی مرمت دیکھتا رہا۔ دن کے ایک بجے وہ فصیل سے نیچے اترا ایک درخت کے سائے میں نماز ظہر ادا کی اور وہیں دوپہر کا کھانا طلب کیا۔ مگر ابھی ایک نوالہ ہی لیا تھاکہ شہر کی طرف سے رونے اور چلانے کی آوازیں سنائی دیں۔ ٹیپوسلطان نے سپاہیوں سے دریافت کیا کہ یہ شور کیسا ہے تو معلوم ہوا کہ شاہی توپ خانے کا سردار سید غفار شہید ہو گیا ہے اور انگریزی فوج بلاروک ٹوک قلعہ کی طرف بڑھی چلی آرہی ہے۔ وہ فوراً دسترخوان سے اٹھ کھڑے ہوا چند جانثاروں کو ساتھ لیا اورقلعہ کے دریچے ڈڈی دروازہ سے نکل کر دشمن پر حملہ کرنے کیلئے بڑھا۔ ٹیپو سلطان کے باہر نکلتے ہی غدار ِ ملت میر صادق نے اندر سے دریچے کو بند کر دیا تاکہ اگر سلطان کو واپس قلعہ میں آنا پڑے تو وہ واپس نہ آسکیں۔ اور پھر شیر میسور سلطان فتح علی ٹیپو امت مسلمہ اور دین محمدی کی سربلندی اور آزادی ءامت کی حفاظت کرتا ، دست بدست مردانہ وار لڑتا ہوا اپنی جان پر کھیل کر4/مئی 1799کوسرنگا پٹنم کے معرکہ میں شہادت کے عظیم منصب پر فائز ہو کر ٹیپو شہید کہلایاجب جرنل HORSE کوسلطان کی شہادت کی خبرملی تواس نے ان کی نعش پرکھڑے ہوکریہ الفاظ کہے کہ:آج سے ہندوستان ہماراہے۔“(ہندوستانی مسلمان ص137) اس غداری کی سزا میرصادق کو کس صورت میں بھگتنی پڑی۔ اس کی تفصیل تاریخ دان صاحب حملات حیدری نے بیان کی ہے کہ میرصادق نے گنجام کے تیسرے روز دروازے پر آکر دربانوں کو کہاکہ خبردار میرے جانے کے بعد تم چپ چاپ دروازہ بند کرلینا وہ یہ کہہ کر آگے بڑھا تھا کہ سامنے سے ایک سپاہی ملازم سلطانی آ کر اسے لعن طعن کرنے لگا کہ اے روسیاہ ،راندہ درگاہ یہ کیسی بے حمیتی ہے کہ تو سلطان دین پرور محسن عالی گوہر , ٹیپو کو دشمنوں کے جال میں پھنسانے کے بعد اپنی جان کیسے بچا لئے جاتا ہے کھڑا رہ ،روسیاہی کے کاجل سے اپنا منہ تو کالا کر لے ۔یہ کہتا ہوا کمال طیش سے ایک ہی وار میں اس کو آب تیغ سے شربت اجل پلا گھوڑے کی زین سے زمین پر مار گرایا۔ اس بدبخت میر صادق کی لاش چاردن تک گلنے سڑنے کے بعد قلعے کے دروازے پر بغیر کفن کے دفن کر دی گئی۔ آج بھی لوگ آتے جاتے قصداً اس ننگ آد م ، ننگ دین، ننگ وطن مردود کی قبر پر تھوکتے ،پیشاب کرتے اور ڈھیر کے ڈھیر پرانی جوتیاں ڈالتے ہیں ’’ افسوس صد افسوس کہ آج کے ننگ ِ دین غداروں نے ابھی تک میر صادق کے عبرت ناک انجام سے نہ کوئی سبق سیکھا ہے نہ ہی سیکھیں گے۔



Dastaan e Saif ul Malook by Mian Muhammad Bakhsh


Saif ul Malook by Mian Muhammad Bakhsh


Free Download Urdu Books and Novels, Digest From Here Online in pdf Format. Download below Link and enjoy the writter . if you want to any books please send me comments.inshAllah we will try to solve your problem.All the information and novels/books here are collected from reliable sources and appeared to be working fine.



Downlaod 01


Saif ul Malook ReadOnline


Downlaod 02


Saif ul Malook ReadOnline


Download 03


Saif ul Malook  ReadOnline






 




Saif Ul Malook1 by makhan7860



Saif Ul Malook2 by makhan7860



Saif Ul Malook3 by makhan7860


Dastaan 1947 When We Stand


Free Download Urdu Books and Novels, Digest From Here Online in pdf Format. Download below Link and enjoy the writter . if you want to any books please send me comments.inshAllah we will try to solve your problem.All the information and novels/books here are collected from reliable sources and appeared to be working fine


Dastaan 1947 When We Stand


About the Great historcial and horor monents Reading in ReadMore>>>>>>




Bagh_o_bahar by meer Aman Dehlve


 Bagh_o_bahar by meer Aman Dehlve


Free Download Urdu Books and Novels, Digest From Here Online in pdf Format. Download below Link and enjoy the writter . if you want to any books please send me comments.inshAllah we will try to solve your problem.All the information and novels/books here are collected from reliable sources and appeared to be working fine



Download


 Bagh_o_bahar  ReadOnline


Download

Friday, 10 May 2013

Dastan-e-Khwaja Baraki


Dastan-e-Khwaja Baraki


Free Download Urdu Books and Novels, Digest From Here Online in pdf Format. Download below Link and enjoy the writter . if you want to any books please send me comments.inshAllah we will try to solve your problem.All the information and novels/books here are collected from reliable sources and appeared to be working fine.



Download


Dastan-e-Khwaja Baraki


Download

Dastan-e-Mughlia


Dastan-e-Mughlia


Free Download Urdu Books and Novels, Digest From Here Online in pdf Format. Download below Link and enjoy the writter . if you want to any books please send me comments.inshAllah we will try to solve your problem.All the information and novels/books here are collected from reliable sources and appeared to be working fine.



Download 


  Dastan-e-Mughlia  ReadOnline


Download

Dastaan Sikandar e Azam



داستان سکندر اعظم 



 



تحریر و تحقیق: محمود احمد


صرف بائیس سال کی عمر میں وہ دنیا فتح کرنے کے لیے نکلا۔
یہ اس کے باپ کا خواب تھا اور وہ اس کے لیے تیار ی بھی مکمل کر چکا تھا لیکن اس کے دشمنوں نے اسے قتل کرا دیا۔ اب یہ ذمہ داری سکندر پر عاید ہوتی تھی کہ وہ اپنے باپ کے مشن کو کس طرح پورا کرتا ہے۔

باپ کی موت کے وقت سکندر کی عمر بیس سال تھی۔ لیکن وہ اس لحاظ سے خوش قسمت تھا کہ کسی مشکل کے بغیر ہی اسے مقدونیہ کی حکمرانی مل گئی تھی۔ ورنہ اس زمانے کا قاعدہ تو یہی تھا کہ بادشاہ کا انتقال ہوتے ہی تخت کے حصول کے لیے لڑائیاں شروع ہو جاتیں اور اس لڑائی میں ہر وہ شخص حصہ لیتا جس کے پاس تخت تک پہنچنے کا ذرا سا بھی موقع ہوتا۔ سکندر ایک تو اپنے باپ کا اکلوتا بیٹا تھا، دوسرا اس وقت مقدونیہ کی حکمرانی کا کوئی اور خاص دعوے دار نہیں تھا۔ لیکن احتیاط کے طور پر سکندر نے ایسے تمام افراد کو قتل کرا دیا جو کسی بھی طرح اسے نقصان پہنچا سکتے تھے۔ یہاں تک کہ اپنی ماں کے اکسانے پر اس نے اپنی دودھ پیتی سوتیلی بہن کو بھی قتل کر دیا۔

سکندر کی ایک اور خوش قسمتی یہ بھی تھی کہ اسے ارسطو جیسا استاد ملا تھا جو اپنے زمانے کا قابل اور ذہین ترین انسان سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے باپ "فلپس" نے اپنے بیٹے کی جسمانی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی اور اس کے لیے اسے شاہی محل سے دور ایک پر فضا مقام پر بھیج دیا تاکہ عیش و عشرت کی زندگی سے وہ سست نہ ہو جائے۔ یہاں سکندر نے جسمانی مشقیں بھی سیکھیں اور گھڑ سواری، نیزہ اور تلوار بازی میں مہارت بھی حاصل کی۔ ساتھ ہی ساتھ ارسطو اس کی ذہنی تربیت بھی کرتا رہا۔

حکمرانی کے ابتدائی دنوں میں سکندر نے "ایتھنز" (یونان کا دارالخلافہ) سمیت دیگر پڑوسی ممالک کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اپنی مہم پر نکلنے سے پہلے وہ نہ صرف اپنی فوج کو مضبوط کرنا چاہتا تھا بلکہ اس کو یہ فکر بھی تھی کہ کہیں اس کی غیر موجودگی میں کوئی مقدونیہ پر حملہ نہ کر دے۔ دو سال اس کام میں بیت گئے۔ اس دوران کچھ علاقوں کو تو اس نے تلوار کے زور پر فتح کر لیا اور کچھ مقابلہ کیے بغیر ہی اس کے ساتھ مل گئے۔


 


شمال اور مغرب کی طرف سے کسی حد تک مطمئن ہوجانے کے بعد سکندر نے مشرق کی جانب نظر ڈالی تو اسے ایران کی وسیع و عریض سلطنت دکھائی دی۔ بحیرہ روم سے ہندوستان تک پھیلی اس سلطنت کا رقبہ لاکھوں میل تھا۔ اس میں دریا بھی تھے، پہاڑ بھی۔ صحرا بھی تھے اور جھیلیں بھی۔ غرض یہاں وہ سب کچھ موجود تھا جو کسی بھی علاقے کو خوش حال بنانے کے لیے ضروری ہے۔


یہی وجہ تھی کہ ایرانی سلطنت پوری نہیں تو آدھی دنیا کی حیثیت ضرور رکھتی تھی۔ یہاں تقریباً ہر رنگ اور ہر نسل کے لوگ آباد تھے۔

ایرانی سلطنت پر حملے کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ ایرانی شہنشاہ دارا نے سکندر کے مخالفین کی خفیہ طریقے سے مدد بھی شروع کر دی۔ دراصل ایرانی فوج میں ایک بڑی تعداد ایسے یونانیوں کی تھی جو شروع ہی سے اپنے پڑوسی ملک مقدونیہ کے خلاف رہے تھے۔ انہی کے اکسانے پر دارا نے یہ قدم اٹھایا تھا۔

334 قبل مسیح میں سکندر 35 ہزار فوج کے ساتھ مقدونیہ سے نکلا۔ اس فوج میں تیس ہزار سوار اور پانچ ہزار پیدل تھے۔ سکندر کی پیدل فوج کی مشہور ترین چیزمقدونوی "جتھا" تھا۔ یہ 256 فوجیوں کا مربع شکل کا دستہ تھا۔ یعنی ہر قطار میں سولہ سپاہی تھے اور ان قطاروں کی تعداد بھی سولہ ہی تھی۔ ان کے ہاتھوں میں جو نیزے ہوتے وہ بھی 16،16 فٹ لمبے ہوتے۔ یوں چلتے ہوئے جب پہلی پانچ قطاروں کے سپاہی اپنے نیزے آگے کی طرف بڑھاتے تو ان کی نوکیں پہلی قطار سے بھی آگے نکل جاتیں۔

مشرق کی طرف چلتے ہوئے دریائے "گرانی کوس" پر سکندر کا سامنا ایک قدرے چھوٹے ایرانی لشکر سے ہوا۔ اس لشکر میں بیس ہزار سوار اور بیس ہزار ہی پیدل سپاہی تھے۔ پیادوں میں زیادہ تر یونانی نسل کے لوگ تھے۔ لشکر کی کمان دارا کے قریبی لوگوں کے پاس تھی۔ ان میں اس کا داماد "سپتھراواتیس" بھی شامل تھا۔

سکندر کی فوج کا پتا چلتے ہی ایرانیوں نے جو سب سے پہلا کام کیا وہ دریا کے ڈھلوان کنارے پر قبضہ کر نا تھا تاکہ دشمن فوج کی پیش قدمی کو روکا جا سکے۔ لیکن اس بات پر سکندر ذرا نہ گھبرایا۔ اسے معلوم تھا کہ اس کی فوج کا ایک ایک سپاہی دل و جان سے اس کے ساتھ ہے۔ اس نے انہیں حکم دیا کہ وہ دشمن کے تیروں کی پروا کیے بغیر دریا پار کر لیں۔ بس ایک مرتبہ دوسرے کنارے پہنچ گئے، پھر ان کا دشمن پر قابو پانا مشکل نہیں ہو گا۔ سکندر کو اچھی طرح معلوم تھا کہ ایشیائی لوگ جہاں گھڑ سواری میں ماہر ہیں وہاں پیدل لڑائی میں خاصے کمزور ہیں۔ مزید یہ کہ اس کے سپاہیوں کے پاس ایرانیوں کے مقابلے میں بہتر اسلحہ ہے۔۔۔۔۔ وہ سر سے پاؤں تک زرہ میں ڈھکے ہوئے تھے اور ان کے نیزے ہلکے اور لمبے تھے۔

سکندر کی فوج کا "جتھا" درمیان میں تھا جب کہ دائیں اور بائیں طرف سوار تھے۔ دائیں طرف کے سواروں کی قیادت وہ خود کر رہا تھا۔ پہلے پہل تو وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھا لیکن دریا کے قریب پہنچ کر اس نے اپنی رفتار تیز کر دی۔ یہاں تک کہ کچھ ہی دیر میں اس کی فوج دریا پار کر کے دشمن کے عین مقابل کھڑی تھی۔

گھمسان کی جنگ شروع ہو چکی تھی۔ اونچائی پر ہونے کی وجہ سے شروع میں تو ایرانیوں کا پلا بھاری رہا لیکن بازی جلد ہی پلٹ گئی۔ مقدونوی فوج نے جب خود اپنے سپہ سالار کو دشمن کی صفوں میں گھستے دیکھا تو ان کی ہمت بندھ گئی اور انہوں نے ایرانیوں پر کاری ضربیں لگانی شروع کر دیں۔ سکندر چمک دار زرہ پہنے اور سر پر مقدونوی کلغی سجائے ایک شان سے آگے بڑھا اور سیدھا اس جگہ پر پہنچ گیا جہاں ایرانی سپہ سالار جمع تھے۔ وہ اس قدر بہادری سے لڑا کہ آن کی آن میں ایرانی سپہ سالاروں کی لاشیں گرنے لگیں۔ سکندر کے بازوؤں کی قوت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ لڑتے لڑتے اس کے نیزے کے کئی ٹکڑے ہو گئے۔ تب اس نے اپنے سائیس (گھوڑے کی نگرانی کے لیے رکھا گیا ملازم) کا نیزہ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور لڑتے لڑتے اسے بھی توڑ ڈالا۔


تب اس کے ایک سپہ سالار "دیماراتوس" نے اپنا نیزہ اس کے ہاتھ میں دے دیا اور اس نیزے کے ایک ہی وار سے اس نے دارا کے داماد "سپتھراواتیس" کا کام تمام کر دیا۔

جنگ جس طرح اچانک شروع ہوئی تھی۔ اسی طرح اچانک ختم بھی ہوگئی۔ کئی ایرانی جرنیل میدان چھوڑ کر بھاگ نکلے۔ ان کے ایک ہزار گھڑ سوار مارے گئے، باقیوں نے بھی بھاگنے ہی میں عافیت سمجھی۔ ایرانی سپہ سالار کی بد حواسی کا یہ عالم تھا کہ ان ہزاروں پیدل سپاہیوں کا استعمال کرنا بالکل بھول ہی گئے جو یونانی نسل کے تھے اور ایرانی فوج میں اجرت پر بھرتی ہوئے تھے۔ یہ جنگ کے پورے عرصے کے دوران میں ایک جانب خاموشی سے کھڑے رہے اور آخر میں مقدونویوں نے ان میں سے دو ہزار کو تو گرفتار کر لیا، باقیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

دوسری طرف مقدونویوں کا نقصان نہایت کم تھا۔ ان کے ساٹھ سوار اور 30 پیادے مارے گئے۔ البتہ ان مرنے والوں میں ایسے بھی تھے جو سکندر کے خاص آدمی کہے جا سکتے ہیں۔

گرانی کوس کی فتح کے بعد سکندر کا سامنا "اسوس" (شام کا شہر) کے مقام پر ایک بہت بڑے ایرانی لشکر سے ہوا۔ اس لشکر کی قیادت خود دارا کر رہا تھا اور اس میں تقریباً ایک لا کھ سپاہی تھے۔ لیکن یہاں بھی ہمت ہارنے کے بجائے سکندر نے اعلی جنگی حکمت عملی اپنائی اور جلد ہی دشمن کے پیر اکھاڑ دیے۔ ایک دفعہ پھر کئی ایرانی جرنیل میدان چھوڑ کر بھاگ گئے۔ دارا نے تو بھاگتے ہوئے یہ بھی پروا نہ کی کہ اس کے خیمے میں اس کی ماں اور بیوی بچے موجود ہیں۔

اس جنگ میں بھی ایرانیوں کا بھاری نقصان ہوا جبکہ مقدونویوں کا نقصان نہایت کم تھا۔ سکندر نے دشمن کی ایک بہت بڑی تعداد کو قیدی بنا لیا۔ لیکن دارا کے بیوی بچوں کے ساتھ اس نے نہایت عمدہ سلوک کیا۔

٭٭٭٭

اب سکندر کا اگلا ہدف مصر تھا لیکن اس کے راستے میں چند ایک ایسے علاقے تھے جو اس سے مقابلہ کرنے پر تیار تھے۔ ان میں پہلا "صور" شہر تھا۔ صور والوں کو جب پتا چلا کہ سکندر ان کی طرف بڑھ رہا ہے تو وہ اپنے قلعے میں محصور ہو گئے۔ صور ایک جزیرہ تھا یعنی اس کے چاروں اطراف میں پانی تھا۔ یہ دیکھتے ہوئے سکندر نے فوراً ایک بہت بڑا بحری بیڑہ تیار کرنے کا حکم دیا اور اس کے بعد قلعے پر ہلہ بول دیا گیا۔ چند ہی دنوں میں یہ اہم شہر بھی فتح ہو گیا تھا۔

صور کے محاصرے کے دوران میں سکندر کو دارا کا پیغام ملا جس میں اس نے لکھا تھا کہ وہ اس کے بیوی بچوں کو چھوڑ دے۔ اس کے بدلے اسے آدھی ایرانی سلطنت دے دی جائے گی۔ یہ پیغام سن کر سکندر کا خاص آدمی "پارمے نیو" کہنے لگا کہ اگر میں سکندر ہوتا تو یہ پیش کش قبول کر لیتا۔ اس پر سکندر بہت خفا ہوا۔ وہ کہنے لگا:

"اگر سکندر، "پارمے نیو" ہوتا تو وہ بھی ایسا ہی کرتا۔"

اس نے دارا کی یہ پیش کش مسترد کر دی اور پیغام بھجوایا کہ اس کے علاوہ کوئی اور پیش کش ہے تو دارا خود آ کر بات کرے۔


صور کے بعد "غزہ" شہر کی باری آئی۔ اس کی فتح کے بعد سکندر مصر میں داخل ہوا اور توقع کے بر خلاف یہاں کے حکمران نے بغیر کسی فوجی کارروائی کے سکندر کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔ یہاں کچھ عرصہ قیام کے بعد وہ دریائے نیل کے راستے سمندر کی طرف بڑھا اور ایک مناسب جگہ پر پڑاؤ ڈالی اور ایک نئے شہر کی بنیاد رکھی۔ اس قدیم شہر کا نام اسکندریہ ہے اور یہ آج بھی مصر کے اہم ترین شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

331 ق م میں سکندر نے پھر مشرق کی طرف پیش قدمی کی۔ اس نے سب سے پہلے عراق کا مشہور دریا فرات عبور کیا اور قدیم شہر نینوا کے قریب "گوگا میلا" کے مقام پر اس کا سامنا شہنشاہ ایران کی عظیم الشان فوج سے ہوا (نینوا وہی شہر ہے جہاں حضرت یونس پیدا ہوئے تھے)۔

بعض تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ گوگا میلا کی جنگ میں دارا کی فوج میں کم و بیش دس لاکھ پیادے، چالیس ہزار سوار، دو سو تلوار باز رتھ (بیل گاڑی کی ایک قسم)، پندرہ ہاتھی اور بے شمار یونانی سپاہی تھے۔ دارا نے لڑائی کے لیے مقام کا انتخاب بھی بڑا دیکھ سوچ کر کیا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ رتھ اونچی نیچی جگہوں پر نہیں چل سکتے۔ اس لیے اس نے ان کے لیے ایک مخصوص جگہ پر زمین کو بالکل ہموار کرا لیا تھا۔

اپنے سے بیس گنا بڑی فوج دیکھ کر بھی سکندر گھبرایا نہیں بلکہ اس کے ذہن نے فوراً لڑائی کا ایک شان دارمنصوبہ بنا لیا۔ سب سے پہلے اس نے اپنے جرنیلوں کو بلا کر ایسی پر جوش تقریر کی کہ سب کی ہمت بندھ گئی۔ اس کے بعد اس نے حملے میں پہل کرنے کے بجائے انتظار کرنا شروع کر دیا۔ اس دوران اس نے اپنے سپاہیوں کو مکمل آرام کرنے کا موقع دیا تاکہ جنگ شروع ہونے تک وہ بالکل تازہ دم اور چاق وچوبند ہو جائیں۔ اس کے برعکس ایرانی سپہ سالار نے اپنے سپاہیوں سے مسلسل سنتریوں کا کام لے کر انہیں تھکا دیا تھا۔

دارا نے اپنی فوج کی ترتیب اس طرح سے کی تھی کہ خود درمیان میں تھا اور دائیں بائیں، آگے پیچھے اس کے نہایت قابل اعتماد آدمی تھے۔ ادھر مقدونوی سپہ سالار سکندر کو معلوم تھا کہ کسی بھی فوج کی دائیں طرف کا دستہ جنگ کے دوران سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اسی لیے اس نے اس کی قیادت اپنے نہایت بہادر اور قابل اعتماد جرنیل "پارمے نیو" کو سونپی اورانتہائی دائیں جانب فوجیوں کی ایک اضافی قطار بھی متعین کی تاکہ کسی اچانک حملے کی صورت میں موثر دفاع کیا جا سکے۔

لڑائی شروع ہوئی تو دونوں فریقوں کو اپنی فتح کا یقین تھا۔ سکندر کے پاس نہ صرف اچھا ذہن تھا بلکہ اس کے پاس اچھے ہتھیار بھی تھے۔ وہ پہلے بھی ایرانیوں پر فتح حاصل کر چکا تھا۔ یہی باتیں اس کے اعتماد کا باعث تھیں۔ دوسری جانب دارا کو تعداد کی برتری کی وجہ سے فتح کی امید تھی۔

لڑائی کا آغاز دارا ہی کی طرف سے ہوا اور اس نے سب سے پہلے اپنے رتھ روانہ کیے۔ اسے پورا یقین تھا کہ یہ دشمن کی فوج میں کھلبلی مچا دیں گے۔ لیکن جب اس نے دیکھا کہ مقدونوی سپاہی بڑی مہارت سے اپنا دفاع کر رہے ہیں تو اس نے پیادوں کو وار کرنے کا حکم دے دیا۔ یہی اس کی سب سے بڑی غلطی تھی اور اسی کی توقع سکندر کر رہا تھا۔ پیادوں کو اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب لڑائی آخر مراحل میں ہو اور دشمن پر آخری وار کرنا ہو۔ پھر کیا تھا، پیادوں کے حرکت میں آتے ہی ایرانی فوج کی ترتیب بالکل ہی ختم ہوگئی اور ان کی صفوں میں خلا آ گیا۔


یہ دیکھتے ہی سکندر نے اپنے نیزہ برداروں اور مقدونوی جتھوں کو حملے کا حکم دیا۔ اس حملے کی خاص بات یہ تھی کہ اس کی قیادت خود سکندر کر رہا تھا۔

"گرانی کوس" کے معرکے کی طرح اس مرتبہ بھی سکندر نے پہلے ایرانی فوج کے بڑے بڑے جرنیلوں کو نشانہ بنایا اور آن کی آن میں ان کی لاشیں کٹ کٹ کر گرنے لگیں۔

دارا نے جب ایک کے بعد ایک آدمی کو گرتے دیکھا تو وہ ہمت ہار بیٹھا اور میدان سے بھاگ نکلا۔ بس یہی اس جنگ کا انجام بھی تھا۔ اس کے بعد اگرچہ ایرانی فوج کے جتھوں نے تھوڑی بہت مزاحمت کی لیکن یہ انفرادی سطح پر تھی اور یہی وجہ ہے کہ مقدونوی فوج کا بال بھی بیکا نہ ہو سکا۔

سکندر نے جب دیکھا کہ اس کے سپاہیوں نے میدان مار لیا ہے تو وہ دارا کے تعاقب میں نکلا تاکہ بار بار کے معرکوں کے بجائے ایک ہی دفعہ اس کا کام تمام کر دے۔ لیکن وہ اس کے ہاتھ نہ آیا۔

کہا جاتا ہے کہ بعد میں بعض ایرانی جرنیلوں نے خود ہی مل کر اسے قتل کر دیا تھا۔ یہ واقعہ موجودہ ایران کے دارالحکومت ایران کے پاس پیش آیا۔ سکندر جب اس جگہ پہنچا تو اسے دارا کی لاش ہی ملی۔ تب اس نے اسے واپس مصطـخر (ایرانی سلطنت کا دارالخلافہ) روانہ کر دیا اور حکم دیا کہ اسے تمام شاہی اعزازات کے ساتھ دفنایا جائے۔

٭٭٭

ان پے در پے کامیابیوں کے بعد حالات میں بہت سی تبدیلیاں آچکی تھیں۔ سکندر کی فوج اب وہ نہیں رہی تھی جو مقدونیہ سے روانگی کے وقت تھی۔ اس کی قوت میں بے پناہ اضافہ ہو چکا تھا۔ اس نے ایرانی سلطنت کے ایک بہت بڑے حصے پر قبضہ کر لیا تھا اور وہاں کے لوگوں نے بھی اس کی اطاعت قبول کر لی تھی۔ وہ یونانی سپاہی جو اجرت پر ایرانی فوج کے لیے لڑ رہے تھے، اب سکندر کے ساتھ شامل ہو گئے تھے اور سکندر نے ان کے لیے وہی معاوضہ مقرر کیا تھا جو انہیں شہنشاہ ایران کی طرف سے ملتا تھا۔

ان سب باتوں کے علاوہ خود سکندر کی طبیعت میں بھی بہت تبدیلیاں آگئی تھیں۔ اس کے احساس خود داری میں اس حد تک اضافہ ہو گیا تھا کہ وہ اپنے آپ کو یونانی "دیوتا زیوس" کی اولاد سمجھنے لگا اور اپنے خلاف کوئی بات نہیں سن سکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب اس کے قریبی دوست "لکی توس" نے اس کو دیوتا ماننے سے انکار کر دیا تو غصے کے عالم میں سکندر نے اپنا نیزہ اس کے پیٹ میں گھونپ کر اسے مار ڈالا۔

٭٭٭

ایران کی فتح کے بعد بہت سے لوگوں نے سکندر کو مشورہ دیا کہ اس نے بہت سی فتوحات حاصل کر لیں، اب وہ واپسی کی راہ لے لیکن اس پر تو دنیا کی فتح کا بھوت سوار تھا۔ اس نے کہا کہ وہ اس وقت تک واپس نہیں جائے گا جب تک ہندوستان کو فتح نہیں کرلیتا۔

یہ 327 ق م کی بات ہے۔ جب اس نے ہندوستان کی طرف پیش قدمی شروع کی۔ اس وقت اس کی فوج میں ایک لاکھ بیس ہزار پیادے اور پندرہ ہزار سوار شامل تھے۔ کابل پہنچ کر اس نے اپنے لشکر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک حصے کو براہ راست دریائے سندھ کی طرف روانہ کیا گیا اور دوسرا حصہ خود سکندر کی قیادت میں شمال کی طرف سے آگے بڑھا۔ یہاں اس نے ایک ایسا قلعہ فتح کیا جس کے بارے میں مشہور تھا کہ روم کا بادشاہ ہرقل بھی اسے فتح نہیں کر پایا تھا۔

کوہ مور کے قریب نیسا کے مقام پر دونوں فوجیں آپس میں مل گئیں اور انہوں نے اٹک کے مقام پر دریائے سندھ کو عبور کیا۔ اس کے بعد دریائے جہلم کے قریب اس کا سامنا ہندوستانی راجہ پورس سے ہوا۔

سکندر کو معلوم تھا کہ وہ پورس کا مقابلہ اس طرح سے نہیں کر سکتا جس طرح اس نے دارا کا مقابلہ کیا تھا۔ یعنی وہ سامنے سے حملہ نہیں کر سکتا تھا۔ راجہ پورس کی بہادری کے قصے اس نے سن رکھے تھے۔ تب اس نے ایک جنگی چال چلی۔ اس نے ایک جرنیل کی قیادت میں اپنی فوج کا کچھ حصہ پورس کے سامنے کر دیا اور باقی فوج لے کر ایک اور مقام کی طرف چل پڑا۔ اس سے پورس یہی خیال کرتا کہ مقدونوی فوج کے وہی مٹھی بھر سپاہی ہیں جو اس کے سامنے ہیں لیکن اس کی بے خبری کا فائدہ اٹھا کر سکندر ایک طرف سے حملہ کر دیتا۔

لڑائی شروع ہو گئی۔ پورس کو سکندر کی موجودگی کا اس وقت تک علم نہ ہوا جب تک وہ دریا پار نہیں کر چکا تھا۔ تب اس نے فوراً اپنے بیٹے کی کمان میں ایک دستہ سکندر کی طرف روانہ کیا۔ لیکن سکندر تو بڑے بڑے سپہ سالاروں اور جرنیلوں سے دو دو ہاتھ کر چکا تھا، یہ نوجوان اس کا کیا بگاڑ سکتا تھا۔ اس لڑائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ پورس کا بیٹا مارا گیا اور اب سکندر کے سامنے میدان بالکل صاف ہو گیا۔ اس نے اسی وقت پورس کی فوج پر ہلہ بول دیا۔

ایرانیوں کے برعکس پورس بہت بہادری سے لڑا۔ اس کے لشکر میں 180 ہاتھی بھی شامل تھے۔ انہی سے مقدونوی فوج کو زیادہ خطرہ تھا۔ کیوں کہ ہاتھیوں کو دیکھ کر گھوڑے ہیبت زدہ ہو جاتے ہیں اور اپنے مالک کا بھی کہا نہیں مانتے۔ اس مصیبت کا علاج سکندرنے یوں کیا کہ جوں ہی ہاتھی حملہ آور ہوئے اس نے اپنے سواروں کو دو قطاروں میں بانٹ دیا۔۔۔۔۔ایک ہاتھیوں کے بائیں اور دوسری دائیں طرف۔ یہ سوار ہاتھیوں کو دھکیلتے ہوئے ایک تنگ سی گھاٹی میں لے آ ئے۔ یہاں آ کر ہاتھی بدک گئے اور خود اپنی فوج کے لیے مصیبت بن گئے۔

اس معرکے میں پورس کے بیس ہزار آدمی اور سو ہاتھی مارے گئے لیکن اس سب کے باوجود پورس نے ہمت نہ ہاری اور مسلسل لڑتا رہا۔ اس نے اس وقت تک ہار نہ مانی جب تک اس کا جسم زخموں سے چور ہو کر بالکل نڈھال نہیں ہو گیا۔

پورس کو گرفتار کرکے اسی روز سکندر کے سامنے پیش کیا گیا۔ سکندر کی یہ عادت تھی کہ دشمن کا جو بھی آدمی گرفتار ہو کر آتا اسے اپنی صفائی میں کچھ کہنے کا موقع ضرور دیتا تھا۔ اس نے پورس سے پوچھا:

"بتاؤ، تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟"

پورس نے جواب دیا: "وہی جو ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ کے ساتھ کرتا ہے۔"

سکندر میدان جنگ میں پورس کی بہادری سے تو پہلے ہی متاثر تھا، اب اس کی گفتگو نے بھی اسے کم متاثر نہیں کیا۔ اور بہادروں کو موت کے گھاٹ اتار دینا اسے بالکل پسند نہیں تھا۔ اس نے پورس کو معاف کر دیا اور اس کا تمام علاقہ بھی واپس کر دیا۔ اس کے جواب میں راجہ بھی اس کا دوست بن گیا۔

سکندر کو ہندوستان کے اندر تک جانے اور اس کے عجائبات دیکھنے کا بے حد شوق تھا۔ اس کا یہی شوق اور تجسس تھا جس نے اسے یہاں آنے پر مجبور کیا تھا۔ ورنہ ایرانی سلطنت پر قبضہ کیا کم تھا کہ وہ اور کی لالچ کرتا۔ تاہم جب اس نے جہلم سے آگے چلنے کا ارادہ کیا تو اس موقع پر اس کی فوج نے اس کا ساتھ نہ دیا۔ سچ بات تو یہ ہے کہ پچھلے کئی برسوں کی مسلسل مشقت نے انہیں سخت تھکا دیا تھا اور اب ان میں مزید مہمات سر کرنے کی بالکل ہمت نہیں رہی تھی۔ تب سکندر نے انتہائی سمجھ بوجھ کا ثبوت دیتے ہوئے وہی کیا جو اس کے سپاہی چاہتے تھے۔ ہندوستان کو فتح کرنے کی اپنی تمام تر خواہش کے باوجود وہ ان کی بات مان گیا اور یہیں سے اس نے واپسی کا فیصلہ کیا۔

لیکن اس عظیم سپہ سالار کی قسمت میں کچھ اور ہی لکھا تھا۔ وہ چاہتا تو یہی تھا کہ اپنے سر پر آدھی دنیا کی فتح کا تاج سجائے اپنے آبائی شہر مقدونیہ میں داخل ہو لیکن ابھی وہ "بابل" ہی میں تھا کہ ایسا بیمار ہوا کہ دوبارہ صحت یاب نہ ہو سکا اور وہیں اس نے موت کو گلے لگا لیا۔

٭٭٭

سکندر نے 33 سال عمر پائی۔ وہ 356 ق م (یعنی حضرت عیسی کی پیدایش سے 356 سال قبل) میں پیدا ہوا اور اس کا انتقال 323 ق م میں ہوا۔ لگ بھگ آدھی دنیا تو اس نے اس جوانی ہی میں فتح کر لی۔ کہتے ہیں اگر وہ تھوڑی دیر اور زندہ رہ لیتا تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ پوری دنیا کا فاتح نہ بن جاتا


 



Designed by
Blog Need Money | Distributed Deluxe Templates